مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا جب امریکہ ایک ایسے معاہدے کو، جو چھ ماہ قبل یورپی یونین کے ساتھ بڑی مشکل سے طے پایا تھا، توڑ دیتا ہے تو اچانک محترمہ اورزولا فورا متحرک ہو جاتی ہیں اور اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سیاست میں، بالکل تجارت کی طرح، معاہدہ بہرحال معاہدہ ہوتا ہے اور جب دو فریق ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو اس کی ایک حیثیت اور اعتبار ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے یورپی یونین کے لیے، اس وقت وہ جس بحران سے دوچار ہے، وہ درحقیقت اسی چیز کا واضح مصداق ہے جسے مکافات عمل کہا جاتا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت میں ایران کے جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیا، تو یورپی ٹروئیکا اور یورپی یونین نے نہ صرف اس اقدام کی مکمل حمایت کی بلکہ بعض پہلوؤں میں اس کی معاونت بھی کی۔ اس وقت انہیں آج کے نتائج اور اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔
ان تمام واقعات سے ایک نہایت واضح سبق حاصل ہوتا ہے یا تو تمام معاہدے واقعی معاہدے ہوتے ہیں یا پھر ہاتھ ملانے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ معاملہ اتنا ہی سادہ ہے، اور دوسری صورت کا لازمی نتیجہ عالمی نظام کے مکمل انہدام کے سوا کچھ نہیں۔
اس کی ایک نمایاں مثال صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر ہر حال میں قبضہ کرنے کی دھمکی ہے، جو اگرچہ بین الاقوامی قانون یا نام نہاد قانون پر مبنی عالمی نظم کے تحت مکمل طور پر غیر قانونی ہے، لیکن یورپ اپنے ماضی کے طرزعمل کے باعث اس انجام کا مستحق ہے۔
آپ کا تبصرہ